کرونڈا پھل کی کاشت فصلات کے گرد باڑ کے طور پرکیسے کریں How to Cultivate Karonda (Carissa carandas) as hedge around the crop field


تعارف
کاشتکار بھائیو جس طرح ( آم، چیکو ، فلسہ ، کیلا ) وغیرہ پھل دار پودے ہیں اسے طرح کرونڈا بھی ایک پھل دار پودا ہے ۔اس کی کچھ اقسام باغبانی خوبصورتی میں استعمال ہوتی ہیں اور کچھ اقسام میں سے ہمیں پھل حاصل ہوتا ہے۔ کرونڈا کا آبائی ملک انڈیا ہے پر اس کی کاشت بنگلادیش ، افغانستان ، نیپال ، سرلنکا اور پاکستان میں ہو رہی ہے ۔ پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے میمن گوٹھ ، درسانو اور گڈاپ ٹاؤن میں کرونڈا کی کاشت ہوئی ہے۔ کرونڈا کے پودے کو باغ میں لگانے کے علاوہ باڑ کے طور پر بھی کاشت کرتے ہیں۔ اس کی کاشت روڈ والی سائیڈ ، زمینوں کے باڈر پر ، آبادی والے علاقوں میں ، باغوں اور فصلوں کے اطراف اور جہاں سے جانوروں کا گزر ہو وہاں ان حصوں کو محفوظ کرنے کے لیے اس کی کاشت کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ کرونڈا کی کاشت سے فصلوں اور باغوں کی حفاظت کے ساتھ ہمیں اس پودے سے پھل بھی ہوتا ہے ۔ اس کی کاشت سے فصلوں اور باغوں کو دھول ،مٹی اور تیز ہواؤں سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ کرونڈا کے پودے کا قد 10 سے 15 فٹ تک ہوتا ہے کرونڈا کا پودا گھنا ، سبز پتے اور کانٹے دار ہوتا ہے اسی لیا اسے باڑ کے طور پر کاشت کے لیا موزوں تصور کیا جاتا ہے۔ کرونڈا کا پودا سخت جان ، کم پانی والا اور گرمی کی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے پھل سے اچار ، جام ، مشروب ، جیلی اور بہت سی مصنوعات بنتی ہیں۔ کرونڈا کی کاشت کے لیے آب وہوا، زمین اور اس کی تیاری، بیج اور نرسری کی تیاری، کاشت اور کاشت کا طریقہ، آبپاشی، کھاد، کیڑے اور بیماریاں، پودے کی چھانٹی، کٹائی اور پیداوار کی تفصیل مندرجہ ذیل ہیں؛

آب وہوا
کرونڈا کا پودا سخت جان ہے۔ اس کے لیےآب وہوا اور علاقہ ( ٹراپیکل اور سب ٹراپیکل ) ہے ۔ اس کی کاشت کے لیے سحرا ، ساحل ، پہاڑ اور دیگر علاقے موزوں ہیں۔ اس پودے میں گرمی کا درجہ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

زمین ، اس کی تیاری اور اساسیت
کرونڈا کی کاشت کے لیے اچھی نرم اور پانی کو جذب کرنے کی صلاحیت ہو۔ زمین کے باڈر پر جہاں آپ نے اس کی کاشت کرنی ہے وہاں 2 فٹ چوڑے ، 2 فٹ گہرے اور 2 فٹ لمبے گڑھے بنائیں اور ان گڑھوں کو گلی سڑی گوبر یا کمپوسٹ ،ریت اور گڑھے کی مٹی کو اچھی طرح ملا کر گڑھوں کو بھر دیں۔ اور پھر پانی لگا دیں وتر آنے کے بعد اسے گڑھوں میں لگالیں۔ اس کی کاشت کے لیے زمین کی اساسیت/تیزابیت 5 سے 8 تک موزوں ہے۔

بیج اور نرسری کی تیاری
کرونڈا کا پودا تین طریقوں سے تیار ہو سکتا ہے۔ بیج ، قلم اور گھٹی سے اس کے پودے تیار ہو سکتے ہیں۔
اس کے پھل سے جو بیج حاصل ہوتا ہے اس کے بیج سے اگست اور ستمبر کے مہینے میں نرسری تیارکریں۔ بیج سے تیار کردہ پودے 10 سے 12 ماہ بعد کاشت کے لیے موزوں ہیں۔
قلموں سے جو پودے تیار ہوتے ہیں ان کی قلمیں 6 سے 10 انچ جسامت میں کاٹ کر اس کو پلاسٹک کی تھلیوں میں لگا کر اسے کو مپلیں نکلنے کے بعد گملوں میں منتقل کر دیں اور یہ 8 سے 10 ماہ کے پودے کاشت کے لیے موزوں ہو جائیں گے۔
گھٹی سے بھی پودے تیار ہو سکتے ہیں اس کے لیے کروندا کے تیار باغ 3 سے 5 سال کے پودوں میں گھٹی باندھ کر پودے تیار ہو سکتے ہیں۔ گھٹی سے پودے تیار ہونے کے بعد 3 ماہ میں کاشت کے لیے موزوں ہیں ۔

کاشت اور کاشت کا طریقہ
کرونڈا کی کاشت کے لیے موزوں وقت فروری مارچ اور ستمبر اکتوبر کا مہینہ ہے۔ کاشت کے لیے زمین کے باڈر پر جہاں آپ نے اس کی کاشت کرنی ہے وہاں 2 فٹ چوڑے ، 2 فٹ گہرے اور 2 فٹ لمبے گڑھے بنائیں اور ان گڑھوں کو گلی سڑی گوبر یا کومپوسٹ ،ریت اور گڑھے کی مٹی کو اچھی طرح ملا کر گڑھوں کو بھر دیں۔ اور پھر پانی لگا دیں وتر آنے کے بعد ان گڑھوں میں کاشت کر لیں۔ گڑھے سے گڑھے کا فاصلہ 1 سے 1.5 میٹر ہونا چاہئے اور ایک ہیکٹر کے باڈر پر 300 سے 400 پودے لگتے ہیں ۔

آبپاشی
کرونڈا کے پودے کو کم پانی کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اس کو پانی پھول اور پھل آنے پر ضرورت لگانا چاہیے۔

کھاد
کرونڈا کے پودے کو کاشت کے وقت گلی سڑی کھاد یا کومپوسٹ کا استعمال کرنا چاہیے اور پھر ہر 3 سے 4 ماہ بعد 10 سے 15 کلو گرام استعمال کرنی چاہیے ۔ اس پودے میں پھول اور پھل آنے کے وقت نائٹروجن فاسفوراس اور پوٹاش کا استعمال کرنا چاہیے ۔

کیڑے اور بیماریاں
کرونڈا کا پودا سخت جان ہے اس پر کیڑے اور بیماریوں کا حملہ عام طور پر نہیں ہوتا۔

چھانٹی
کرونڈا کے پودے کی چھانٹی پھل توڑنے کے بعد اس کی جو شاخیں باڑ سے باہر جا رہے ہوں ان کو کاٹ دینا چاہیے اور جو شاخیں پھل نہ دے رہی ہوں ان کی بھی چھانٹی کر دینی چاہئے ۔

کٹائی اور پیداوار
کرونڈا کے پودے پر پھل 2 سے 3 سال بعد آنا شروع ہوتا ہے۔ اس پودے پر مارچ کے مہینے میں پھول آنا شروع ہوتے ہیں اور پھل جولائی سے ستمبر تک حاصل ہوتا ہے ایک پودا 3 سے 5 کلو گرام تک پیداوار دیتا ہے۔

تحریر: نعمان سیال (زرعی ماہر)

اس تحریر کو بھلائی کی نیت سے معلومات کے لئے دیا گیا ہے۔ ادارے یا اسکے کسی فرد کا متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *