Nature and Unfortunates قدرت اور بد قسمت انسان

تحریر: جناب عدنان صاحب، سی ای او ہرا آرگینکس کراچی

زمانہ جہالت کا بدقسمت انسان ہر چیز تباہ و برباد کرنے والی اللہ کی مخلوق۔۔۔۔ حضرت انسان زمین پر رب کے میزان یعنی ایک ایسا پائیدار نظام جس میں چیونٹی سے لے کر ہاتھی تک سب کا خوراک کا نظام اور رہن سہن اور تولیدی نظام سلامت رہے۔ ایسے نظام کو ختم کرکے زمین پر مکمل طور پر اپنا قبضہ کرکے جنگلات تباہ کر کے خود سمیت باقی مخلوقات کی خوراک کے نظام کو ختم کرکے ناقص اور گھٹیا خوراک کو گدھوں کے طرح محنت کر کے اگانا اورپھر وہ کھا کر نہ اپنی عمر کو کم کرنا اور جتنا زندہ رہنا اس میں طرح طرح کی بیماریاں پریشانیوں کا شکار رہنا۔پھر اسی جڑی بوٹیوں سے ان کاعلاج دریافت کرکے کھا کر اپنے آپ کو مطمئن کرنا اور اس علاج سے ہونے والے نقصان سے مزیدبیمار ہو کر مر جانے پر اللہ کی رضا کہہ کر خود کو مطمئن کرنا۔ فضامیں رب کے قائم کردہ توازن کو ناقص آسائشوں یعنی گاڑیاں،صنعتیں، ہوائی جہاز، اور پلاسٹک کے زریعے زمین کا سارا کابن اور طرح طرح کی گیسوں کوفضا پر چھوڑ نا۔بہترین کھاد یعنی فصلوں کا تمام ویسٹ اور جانوروں کا گوبر جلا کر ضائع کردینا اور ناقص کھادیں اور تونائی خرچ کر کے اس ہی زمین کو زرخیز کرنے کی کوشش کرنا۔اپنا غیر تحلیل شدہ کچرا ماحول میں پھینکنا،ایک دوسرے سے افضل ہونے اور اپنی بقا کے لیے زمین میں ایٹم بم کے تجرباتی اور غیر تجرباتی دھماکے کر نا جس کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلوں سے ہونے والے نقصان کا رونامچانااور ر درخت لگا کر خود کو اشرف المخلوقات کا شرف بخشنا۔

جانداروں میں رب کا قائم توازن یعنی جراثیم سے لے کر ہاتھی اور سمندر میں کائی سے لے کر ہزاروں ٹن کی مچھلی تک ایک خاص میزان کے تحت وجود میں ہیں۔ جو ایک دوسرے کو کھا کر جن کا گوشت سے گوبر تک دوسرے جانداروں کی غذا ہے جن سے انکے تولیدی نظام قائم رہتا ہے۔اور ان میں سلامتی کا نظام قائم رہتا ہے۔ جو کہ مکمل طور پر پائیدار ہے۔اس میزان میں کئی جانوروں کی غذا پر قابض ہو کر کئی کو شکار کے نام پر کسی جاندار کو سیر و تفریح کے لیے پنجروں میں بند کرنا کئی کو خوبصورتی کے لئے گھروں میں چھوٹے چھوٹے پنجروں میں قید کر نا کئی جاندار کو خوف اور مذہب کے نام پر جہاں ملے وہاں مار دینا۔کچھ جو پالتوں ہو چکے ہیں انکو بھی اپنی طرح ناقص غزا اور غیرآزاد زندگی دے کر کئی کو پیداوار کے نام پر انکے بچوں کا دودھ چھن کر بچوں کو قربان کر کے کھانا۔ پھر کچھ عرصہ دودھ لے کر اسکو بھی قربان کرنا۔۔ باقی کچھ کو جینیاتی طور پر چھڑ چھاڑ کر کے انکی نسل کو اعلی سے ناقص بنانا۔۔ سمندروں دریاوں میں صنعتی فضلا چھوڑ کر سمندری حیات کو تباہ کرنا۔۔ زمین پر ایک خاص میزان کے ساتھ پہاڑ رکھے ہیں تاکہ زمین کا وزن برقرار رکھا جائے۔ اور ان پہاڑوں پر برف اور اسکے پگلنے کے بعد دریاوں کا وجود میں آنا اور ان دریا سے زمین کو حیاتی نظام کا تحافظ اور پھر دریا کا سمندر سے ملنا پھر بھاپ بن کر اسمان اور اسمان سے پھر برف اور دریا۔۔ اس میزان میں اپنی آسائشون کے لئے چھڑ چھاڑ کر کے پہاڑوں کو کاٹ کر بڑی بڑی عمارتیں، سنگ مرمر،صنعتی اور زرعی معدنیات نکال کر اس میزان کا توازن کو خراب کرنا۔ اپنی خودی یعنی اشرف المخلوقات ہونے یعنی خود کی جان سمیت تمام جاندار اور بے جان مخلوقوں کا رب کی جگہ پر خلیفا (یعنی جو میزان رب نے بنایا ہے اس میں عدل کے ساتھ اسکے نظام میں توازن قائم رکھنا)کام چھوڑ کر اللہ کی نعمتوں کا شکر کرنے کے بجائے جھٹلانے والوں اور حد سے بڑھ جانے والوں کے راستے چل پڑا ہے۔ جس کے نتیجے اس پر ایسا نظام مسلط ہے جو ناانصافی عدل دھوکے پر مشتمل ہیے۔

یہ تحریر نیک نیتی کی بنا پر اشتراک کی جارہی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Reply